جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
از دیا مغل
قسط نمبر2
"منت کا دھاگا، حاضری کا دیا، منت کا روزہ، مائی گاڈ، تم لوگ بھی نا۔" وہ ایک ہاتھ سے اپنے بال پیچھے کرتی لاپرواہی سے بولی۔
ثنا نے اس کو غور سے دیکھا اور کہا۔ "جب تجھے محبت ہو گی نا۔ تب پوچھوں گی کہ کیا ہوتا ہے یہ سب"
"۔ محبت اور میں۔۔۔ ناٹ پاسیبل سویٹ ہارٹ۔ اور اگر ہو بھی گئی تو دھاگوں والی نہیں ہو گی۔" وہ بے نیازی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
"وہ ایسی ہی تو تھی۔ ایک وقت میں بہت کچھ۔ خیال رکھنے والی بھی، اور لاپرواہ بھی۔ سیانی بھی اور بےوقوف بھی۔ کبھی چھوٹی سی بات پر آنکھیں بھر لاتی اور کبھی کسی نقصان پر محض کندھے اچکا دیتی۔ کبھی کبھی بے حد خوش کبھی بے وجہ اداس۔ کبھی کسی اجنبی کی مدد کو تیار تو کبھی اپنوں سے بھی بیزار، اور کوئی پوچھتا کہ تم حقیقت میں کیا ہو؟ تو دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ آ کر رک جاتی اور بہت پرسکون سا جواب ملتا۔ میں خود کو بہت زیادہ نہیں جانتی۔ اور پوچھنے والا مزید الجھ جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی گزرتی گئی یا شاید صرف وقت۔ زجاجہ اپنی زندگی کے ایسے دور میں داخل ہو چکی تھی جسکو آجکل کے جدید لوگ پریکٹیکل لائف کا نام دیتے ہیں۔سکول اور یونیورسٹی دونوں بہت اچھی جا رہی تھیں ۔بس وہ مصروف بہت زیادہ ہو گئی تھی ۔ جس کی شکایت سب سے زیادہ اس کے دوست کرتے تھے ۔
کلاس سے نکل کر سٹاف روم کی طرف جاتے ہوئے اس کی نظر ولید پر پڑی جو اپنے آفس کے باہر کھڑا میتھس ٹیچر سر آصف سے کوئی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔ بلیک پینٹ کے ساتھ سکائی بلو شرٹ پہنے ،سن گلاسز چڑھائے بلاشبہ وہ شاندار لگ رہا تھا ۔۔۔۔ ولید حسن نے کسی بات پر بےاختیار قہقہہ لگایا تو اپنے خیالوں میں گم زجاجہ چونک پڑی
"کوئی مرد ہنستے ہوئے اتنا خوبصورت بھی لگ سکتا ہے کیا " اس نے سوچا ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتی مس ماریہ نے اسے آواز دی اور وہ ولید حسن پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھ گئی ۔
----------------------------------------!
سکول میں سب بہت اچھے تھے ۔جلدہی زجاجہ کی دوستی ماریہ سے ہو گئی ۔ماریہ بھی اردو ٹیچر تھی اور شوخ سی لڑکی تھی ۔زجاجہ کو اپنے مزاج جیسی یہ لڑکی اچھی لگی ۔
"یار کیا مسئلہ ہے ۔۔۔ابھی کچھ دن پہلے تو میٹنگ ہوئی تھی ۔۔۔اب پھر کیا کہنا ہے ولید سر نے " یہ مس آسیہ تھیں جو میٹنگ کی اطلاع ملتےہی ہمیشہ کی طرح چڑ گئیں تھیں ۔
"یہ تو میٹنگ اٹینڈ کر کےہی پتا چلے گا مائی سویٹ لیڈی "
ماریہ نے بات کا جواب اپنے انداز میں دیا ۔
"کب ہے میٹنگ "زجاجہ نے بےخبری کا اظہار کرتے ہوۓ پوچھا ۔
"کل ۔۔۔۔ 2 بجے دربار میں حاضری دینی ہے "۔۔۔۔ مس آسیہ نے جل کر جواب دیا تو سب ہنس پڑیں ۔
،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماما آج میں لیٹ ہو جاؤں گی ۔۔۔ میٹنگ ہے ۔۔۔ بابا کو بتا دیجئے گا " اس نے جلدی جلدی ناشتہ کرتے ہوئے اطلاع دی ۔
"کیا مصیبت پال لی ہے تم نے بیٹا ۔۔۔ حالت دیکھو اپنی۔۔۔کتنی کمزور ہوتی جا رہی ہو "ماما نے فکرمندی سے کہا
"اوہو مائی سویٹ ماں آپ بہت پیار سے دیکھتی ہیں نا اس لئے ایسا لگتا ہے آپ کو۔۔۔۔۔ ویسی ھی ہوں ۔۔۔اوکے اب چلتی ہوں ۔۔۔بابا کو سلام بولیئے گا ۔۔۔۔۔ " وہ ماما کو پیار کرتی نکل گئی ۔۔۔۔
سکول میں دن بہت مصروف رہا ۔۔۔وہ بیا کے میسج کا جواب بھی نہ دی سکی ۔۔۔۔ میٹنگ میں بھی اس کا دھیان بیا اور حیدر لوگوں کی طرف ہی رہا ۔۔ مسز درانی کی آدھی باتیں اس کے سر کے اوپر سے گزر گئیں ۔۔۔۔
"مس آسیہ تو کہہ رہی تھیں ولید سر کی میٹنگ ہے " زجاجہ نے پاس بیٹھی ماریہ سے سرگوشی میں پوچھا ۔
"میم کے بعد سر خطاب فرمائیں گے " ماریہ کے جواب پر وہ ہنس پڑی ۔
مسز درانی نے بات مکمل کی ہی تھی کہ فضا میں امپورٹڈ کلون کی خوشبو پھیل گئی ۔۔۔۔
"لگتا ہے بادشاہ سلامت تشریف لا رہے ہیں " زجاجہ نے ماریہ کے کان میں کہا
"ہمم ۔۔۔۔ بلکل " ماریہ نے مختصر جواب دیا کیونکہ ولید حسن میٹنگ روم میں داخل ہو چکا تھا ۔
"وہ بھیڑ میں بھی آئے تو تنہا دکھائی دے " زجاجہ نے ولید کو دیکھ کر سوچا اور مسکرا دی ۔
میٹنگ کے دوران وہ یوں سر ہلارہی تھی جیسے ہر بات سمجھ رہی ہو ۔ ولید نے ایک دو بار سرسری سا زجاجہ کو دیکھا ۔۔۔ مگر زجاجہ کو بہت خاص محسوس ہوا ۔۔۔ وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ میٹنگ ختم ہوئی تو وہ یونیورسٹی کی طرف بھاگی ۔
سارا راستہ وہ اپنی کیفیت پر حیران ہوتی رہی ۔۔۔۔ "وہاٹ نان سینس زجاجہ سکندر ۔۔۔ یو آر ناٹ آ ٹین ایجر گرل۔ کوئی ضرورت نہیں ولید سر کو دیکھ کے ٹرانس میں آنے کی۔"اس نے خود کو ڈانٹا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گئی ۔
"زجاجہ سنو " وہ کلاس لے کر نکلی تو حیدر نے پکارا
وہ رک گئی ۔۔۔ "رضا آیا ہوا ہے ۔۔۔ کیفے میں سب تمہارا اور بیا کا ویٹ کر رہے ہیں ۔۔جلدی آؤ " حیدر نے اپنی بات مکمل کی اور چلا گیا ۔۔۔۔
"واؤ۔۔۔۔۔ رضا آیا ہے ۔۔۔۔ مزہ آئے گا " وہ خوشی سے بیا سے بولی ۔۔۔۔ بیا نے بھی آنکھ دبا کر اوکے کا سگنل دیا ۔
رضا ان کی کلاس یا یونیورسٹی سے تو نہیں تھا لیکن ان کے گروپ کا اہم ممبر تھا ۔۔۔۔ معصوم سی صورت والا ہینڈسم نٹ کھٹ سا رضا چوہدری زجاجہ کو بہت پسند تھا ۔۔۔۔ وہ حیدر کا دوست تھا اور ثنا کا بھی بیسٹ فرینڈ تھا ۔۔۔۔ لیکن اپنی اچھی اور شوخ طبیعت کی وجہ سے اب سب سے بہت دوستی ہو چکی تھی اس کی ۔۔۔ خاص طور پر زجاجہ سکندر سے تو اس کا پورا مقابلہ ہوتا تھا ۔ وہ اور بیا کیفے پہنچی تو رضا حسب معمول مسکراہٹ سجائے باتوں میں مصروف تھا ۔۔۔
"آئ رئیلی لائک دس بوائے " بیا نے رضا کو دیکھ کر کہا
"یہ بندہ اچھا لگنا جانتا ہے بیا ۔۔۔۔ بلکل ولید حسن کی طرح ۔۔۔"وہ ایک دم کہہ گئی ۔۔۔
"کیا مطلب "۔۔۔بیا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
"کچھ نہیں " زجاجہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
"اوئے استانی آئ ہے " رضا کو اس کی جاب کی اطلاع مل چکی تھی ۔۔۔
"داخلہ لے لو " زجاجہ نے بیٹھتے ہوئے جواب دیا ۔
"تم پڑھاؤ تو میں ایک کلاس میں 5 سال بھی لگانے کو تیار ہوں" رضا شوخ ہوا ۔
"بکو مت ۔۔۔ بتاؤ اتنے دن کہاں تھے " زجاجہ نے کوک کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے پوچھا ۔
"بس یار زندگی کے دھندے ۔۔۔ویسے میں گھر گیا ہوا تھا ۔۔۔امی کو شکل بھول گئی تھی میری ۔۔۔ وہی یاد کروانے گیا تھا "وہ رضا ہی کیا جو سیدھا جواب دے "یہ حماد کدھر ہے ۔۔۔۔نظر نہیں آ رہا "
"وہ بھی امی کو شکل یاد کروانے گیا ہے "حیدر نے جل کر جواب دیا ۔
"اوہ اس کا مطلب ہے آج کل تم ان 3 عدد چڑیلوں سے اکیلے مقابلہ کر رہے ہو ۔۔۔۔مان گیا تجھے میں حیدر ۔۔۔جگر لگا ہے " وہ حیدر کا کندھا تھپکتے ہوئے بولا
"اف اتنی خوبصورت لڑکیاں تمہیں چڑ یلیں لگتی ہیں رضا "ثنا نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں
"خوب صورت نہیں ۔۔۔۔خوف صورت لڑکیاں " رضا کے جواب پر حیدر کا قہقہہ بےاختیار تھا جبکہ وہ تینوں بھی مسکرا دیں ۔۔۔۔۔
یونیورسٹی میں بھرپور وقت گزار کر وہ خوشگوار موڈ کے ساتھ گھر لوٹی تو ماما نے کھانے کا پوچھا ۔۔۔
"نہیں ماما ۔۔۔۔بھوک نہیں ہے ۔۔۔۔ اب بس آرام کروں گی "اس نے جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
بیڈ پر لیٹتے ہی اسے ولید حسن کا خیال آ گیا ۔۔۔۔سنجیدہ سا پیشہ ورانہ انداز میں بات کرتا ولید حسن اس کے حواسوں پہ کیوں چھا رہا تھا وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی ۔ اس نے موبائل اٹھایا اور واٹس ایپ میسنجر کھول کر ولید حسن کی dp دیکھی ۔۔۔۔ وہ تصویر گاڑی میں لی گئی تھی ۔۔۔۔ ولید سفید رنگ کی شرٹ میں تھا اور dp میں صرف گردن تک ہی نظر آ رہا تھا کیونکہ تصویر کو کافی کلوز کیا گیا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ ولید کے نچلے ہونٹ کے دائیں کنارے پر کوئی نشان تھا ۔۔۔۔ "یہ کیا ہوا ہو گا سر کو "۔۔۔۔ اس نے بیوقوفانہ سا سوال کیا اور پھر خود ہی جھینپ گئی ۔۔۔ "کیا ہو گیا ہے مجھے ۔۔۔ہد ہے پاگل پن کی " اس نے خود کو ایک بار پھر سرزنش کیا اور موبائل بند کر کے سونے کے لئے آنکھیں بند کر لیں ۔
بہت سے دن بہت مصروف گزرتے گۓ ۔۔۔۔ زجاجہ سکول اور یونی کے درمیان چکر کاٹتی رہی ۔۔۔۔ وہ جلد ہی سکول میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گئی ۔۔۔کیونکہ وہ بہت ایمانداری سے اپنا کام کر رہی تھی ۔۔۔۔ ولید حسن سے کبھی سامنا ہو جاتا اور کبھی بس دور سے ہی نظر آ جاتا ۔۔ زجاجہ اپنی فیلنگز سے پرپریشان رہنے لگی ۔۔۔ یہ بات اس کے دوستوں نے بھی محسوس کی مگر وہ تھکن کا بہانہ بنا کر ٹال گئی ۔۔۔
وہ کلاس میں تھی جب پیون نے اسے ولید کا بلاوا دیا ۔۔۔۔
"مے آئ کم ان سر " اس نے اندر جانے کی اجازت چاہی ۔
"یس " ولید نے فائل سے نظر ہٹائے بغیر جواب دیا ۔
"جی سر آپ نے بلایا "
"جی ۔۔۔۔ہیو آ سیٹ پلیز " وہ ہنوز فائل پر سر جھکائے کچھ لکھ رہا تھا ۔ زجاجہ ایک کرسی پر بیٹھ گئی ۔
"سوری مس ۔۔۔۔ آپ سے پھر بات نہیں ہو سکی ۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو کوئی پرابلم نہیں ہوا ہو گا کیونکہ اگر ہوتا تو بات یہاں تک آ چکی ہوتی " ولید نے فائل بند کرتے ہوئے کہا "آج آپ کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں لینگویجز کو میں خود سپیشل فوکس پھ رکھتا ہوں ۔۔۔ میری کچھ مصروفیت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے میں وقت نہیں دے پاؤں گا زیادہ ۔۔۔آپ کی ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے اردو سبجیکٹ کی اسیسمنٹ آپ کو دے رہا ہوں ۔"
"جی سر مجھے ۔۔۔۔۔۔ " وہ بوکھلائ
"اینی پرابلم ؟؟ " ولید نے بھنویں اچکا کر سوالیہ نظروں سے زجاجہ کو دیکھا
"نو ۔۔۔نو سر ۔۔۔۔ آئ ول ٹرائی مائی بیسٹ سر " اس نے خود کو نارمل کرتے ہوۓ جواب دیا ۔
"گڈ ۔۔۔۔ وش یو آل دا بیسٹ " یہ کہہ کر ولید نے دوبارہ فائل پر نظریں جما دیں جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ اب جا سکتی ہیں ۔۔۔۔ زجاجہ اٹھ کر کلاس میں آ گئی ۔
"بیا " اس نے پکارا
"ہمم " بیا نے بھی مختصر جواب دیا ۔
"وہ مجھے اچھا لگنے لگا ہے " زجاجہ نے دور کہیں آسمان میں دیکھتے ہوۓ اعتراف کیا ۔
"مجھے پتا ہے زجی " بیا نے انکشاف کیا
"کیا مطلب ۔۔۔ " وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی "تمہیں کیسے پتا ہے "
"ولید حسن تمہاری آنکھوں میں صاف دکھتا ہے زجاجہ سکندر "بیا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔
"میں ہار گئی بیا ۔۔کسی کمزور لمحے سے " وہ بولتی چلی گئی "پتا ہے کب سے میں چاہنے لگی ہوں اس کو ۔۔۔۔جب سے میں نے اس کو دیکھا ہے ۔۔۔۔ یو نو فرسٹ سائٹ لو ۔۔۔۔۔جس پر میرا یقین نہیں تھا ۔۔۔۔ میں خود اس کی زد میں آ گئی ۔۔۔اور جب جب وہ مجھے نہیں دیکھتا نا تب میں اس کی اور دیوانی ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔اس کی بےنیازی مجھے پاگل کرتی ہے "
"کسی کو چاہنا بری بات تو نہیں زجی ۔۔۔۔ یہ تو توفیق ہے جو تمہیں عطا ہو گئی " بیا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاماتو وہ بھی مسکرا دی ۔
؛؛؛؛-----؛؛---------؛؛؛
بہت سے انسانوں جیسا ایک انسان اسکی زندگی کے آئینے میں بھی ابھرکر اپنا نقش ثبت کر چکا تھا ۔ لیکن وہ پھر بھی منتوں، درباروں اور ٹھوکروں سے انکاری تھی۔ صرف چاہنا اور بے پناہ چاہنا۔ اپنے جگنو کی رنگین سی تتلی۔ محبت کے رنگوں سے سجی اڑتی پھرتی۔ وہ اکثر کہتی۔ "یہ بھی کوئی بات ہے بھلا کہ اگر وہ بندہ جسکو آپ چاہتے ہیں وہ گھر سے باہر ہو تو مغرب کے وقت بال باندھ لو۔ حد ہے یار۔وہم کی بھی"۔۔
۔۔ اور دور تقدیر اسکی باتوں پر مسکرا دیتی۔
وہ عام دنوں کی طرح چھٹی کر کے ماریہ کے ساتھ گھر کے لیے نکلی۔ تو بے دھیانی میں ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کے گرتے گرتے بچی۔ اسکے منہ سے بے اختیار نکلا۔ "یا اللہ! ولید کی خیر کرنا۔"
دو قدم چل کر وہ چونک کر رکی۔ اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی.